ثقافت
7 منٹ پڑھنے
ترک فنکار، زنزیبار کی سمندری معیشت کو فنون کے ذریعے جانبرکر رہے ہیں
ماہی گیری بنیادی ذریعہ روزگار ہونے والے زنزیبار کے جنت نظیر جزائر میں، ترک فلاحی تنظیم"امید کی کرن تم ہوانجمن" ساحلی معیشت کو جانبر کرنے اور خاص طور پر خواتین کو دوبارہ ماہی گیری میں شامل کرنے کے لیے جاپانی فن کی شکل گیوتاکو کو فروغ دے رہی ہے۔
ترک فنکار، زنزیبار کی سمندری معیشت کو فنون کے ذریعے جانبرکر رہے ہیں
Zanzibar
4 گھنٹے قبل

ماہی گیری بنیادی ذریعہ روزگار ہونے والے زنزیبار کے جنت نظیر جزائر میں، ترک فلاحی تنظیم"امید کی کرن تم ہوانجمن" ساحلی معیشت کو جانبر  کرنے اور خاص طور پر خواتین کو دوبارہ ماہی گیری میں شامل کرنے کے لیے جاپانی فن کی شکل گیوتاکو کو فروغ دے رہی ہے۔

بحرِ ہند میں تنزانیہ کے ساحلی علاقے زنزیبار، حالیہ برسوں میں غیر معمولی اور منفرد مقامات کے متلاشی سیاحوں کا مرکزِ توجہ بن گیا ہے۔

دو بڑے جزائر پر واقع سیاحتی مقامات، روزمرہ زندگی کے سمندری لہروں کے ساتھ ہم آہنگ پرسکون ماحول میں مل کر، زائرین کو ایک منفرد  ماحول سے محظوظ کرا رہے ہیں۔

زنزیبار، ترکیہ کے ساتھ گہرے روابط رکھنے والے صدر حسین علی مونی کی قیادت میں ہے۔ صدر مونی ترکیہ سے اپنی وابستگی کو "نصف ترک" کے طور پر بیان کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات پر زور دیتے ہیں۔

ماضی میں یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کے اہم راستوں میں سے ایک، زنزیبار 19ویں صدی کے وسط تک سمندری سفر اور تجارت کا مرکز رہا۔ تاہم، سوئز نہر کے کھلنے کے ساتھ یہ راستہ بدل گیا۔ آج بھی ایک اہم مصالحے پیدا کرنے والے علاقے کے طور پر جانا جاتا ہے، مگر ناکافی بنیادی ڈھانچہ اور وسائل کی کمی، زنزیبار کے ماہی گیری شعبے اوربحری صنعتوں میں "بحری معیشت" کی مکمل استعداد کو بروئے کار لانے میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

فنون و صنعت ایک ساتھ

2012 سے "امید کی کرن تم ہو انجمن"نے زنزیبار کے مچھیروں کے مسائل کو حل کرنے اور بحری معیشت کو جانبر کرنے کے لیے فن کے شفا بخش اثرات کا استعمال کیا ہے۔ تنزانیہ ریسرچ اپلائڈ امپیکٹ (RIE) کے تعاون سے "سماکی فنون منصوبہ" شروع کرنے والی تنظیم، زنزیبار کی مچھلیوں کو گیوٹاکو فن کے ذریعے نمائش کر رہی ہے۔

گیوٹاکو، مچھلیوں کو چاول کے کاغذ پر چھاپنے کا روایتی جاپانی فن ہے۔ یہ طریقہ ابتدا ئی ادوار میں مچھیروں کی طرف سے اپنے  شکار کو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، لیکن آج یہ ایک فن کا روپ دھار چکا ہے۔

امید کی کرن تم ہو انجمن کے بانی صدر نائب ایمراح اینگین کا کہنا ہے کہ "سماکی فن منصوبہ" کا مقصد گیوٹاکو کے ذریعے  زنزیبارکے ماہی گیری کے شعبے کو جانبر کرنا اور مقامی  ماہی گیر خاندانوں کو اس شعبے میں ضم کرنا ہے۔

تبدیلی کے قائدین

سماکی فن منصوبہ ایک خیال کے طور پر ترک مصور سولے یاؤزایر اور اطالوی گیوٹاکو فنکار ایلینی ڈی کیپیتا کے درمیان تعاون سے شروع ہوا اورامید کی کرن تم ہو انجمن  کے تعاون سے  حقیقت کا روپ دھار  گیا۔


یہ منصوبہ ترکیہ اور زنیبار کے درمیان ایک نیا پل قائم کرتے ہوئے افریقی  ماہی گیروں  کے لیے ایک نئے دور کا سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔


ترکیہ کے لیے ثقافتی تعاون افریقہ میں اپنی بڑھتی ہوئی سافٹ پاور کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ سماکی فن منصوبہ ترکیہ اور تنزانیہ کے تعلقات کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔
یہ تعلقات ترک تعاون اور ہم آہنگی ایجنسی (TİKA) کے 2017 میں شروع کیے گئے "اپنے پیروں پر کھڑا افریقہ" وژن کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں اور دونوں طرف کے ثقافتی، تعلیمی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کر رہے ہیں۔


ایمراح اینگین نے کہا کہ جب یہ منصوبہ اپنے مقصد تک پہنچے گا تو جزائر کے مچھیرے خاندانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی 100 امریکی ڈالر سے زیادہ ہو جائے گی۔ اس وقت زنزیبارکی اوسط ماہانہ آمدنی 47 ڈالر ہے۔
اس انجمن  کا مقصد صرف ماہی گیری کی صنعت کو ترقی دینا نہیں ہے، بلکہ زرعی ترقی کو بھی فروغ دینا ہے۔ اس سلسلے میں دو مکمل سازوسامان والی کشتیوں کی خریداری کی منصوبہ بندی بھی  کی جا رہی ہے۔


اینگین نے کہا، "جب ہم ماہی گیروں  کی زندگیوں کو بہتر بنائیں گے، تو جزیرہ ایک خودکفیل گاؤں بن جائے گا جو اپنے ضرورتوں کو پورا کر سکے گا اور دوسروں کی مدد بھی کر سکے گا۔ ہم ان اہداف کو 2025 کے آخر تک حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔"

افریقہ میں جاپانی فن کی ایک شکل

ترک فنکار سولے یاوزایر کہتی ہیں، "مچھلی اس پروجیکٹ کے لیے بلاشبہ سب سے اہم  ذریعہ الہام ہے۔"
جزائر کی مچھلیوں کے لیے مشہور ٹمبٹو جزیرہ، گیوٹاکو کے لیے بڑا امکان رکھتا ہے۔ تاہم، پروجیکٹ کے حامیوں کا خیال ہے کہ مقامی لوگ اس ممکنہ موقع کو دنیا کے سامنے پیش کرنے سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا، "ٹمبٹو کی مچھلیاں عالمی منڈیوں تک کیسے پہنچ سکتی ہیں؟ میں نے  اندازہ لگایا کہ کولڈ چین کا قیام ضروری ہے تاکہ  مچھلیوں کو دور دراز منڈیوں تک پہنچایا جا سکے۔ میں نے مچھلی کی چھاپیں بنانے اور انہیں پیداوار کے ذریعے بیچنے کی تجویز دی۔ اس خیال کو مثبت ردعمل ملا اور ہم اسے  حقیقت  کا روپ دینے  اپنے سفر پر نکلے۔"


زنزیبار جزیرے  پر مقیم  چالیس خواتین نے 21 دنوں کی ٹریننگ ، ورکشاپوں اور نمائشوں کے ذریعے گیوٹاکو فن سیکھا۔ ان میں حال ہی میں منعقدہ "سمندری پورٹریٹ" نمائش بھی شامل ہے۔
ڈِی کیپیٹا نے کہا، "گیوٹاکو مکمل طور پر اصلی مچھلی کی چھاپ کے بارے میں ہے۔ یاوزایر نے مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے زنزیبار میں گیوٹاکو سکھانے کے لیے مدعو کیا۔ میں نے اس دعوت کو قبول کیا اور اس میں شامل ہونے پر خوش ہوں کیونکہ میں خواتین کو نئے روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا چاہتی تھی۔"

"امید  کی کرن تم ہو" ایپلیکیشن پر


گاؤں کی بزرگ خواتین اور فنونی منصوبہ سے استفادہ کرنے والوں میں سے رحما خامس نے کہا کہ سماکی فنونی  منصوبہ  اور خواتین کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت کی بدولت ترکی نے زنزیبار اور تنزانیہ پر ایک مستقل اثر چھوڑا ہے۔


خامس اپنے حاصل کردہ علم کے لیے شکرگزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں: "ہم اپنے اساتذہ اور دیگر شرکت کرنے والی تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر امید کی کرن تم ہو فاؤنڈیشن کی نوازش ہے  کہ وہ اس مدد کے ساتھ ہمارے جزیرے پر آئے۔  ہم پہلے  ڈرائنگ  بنانا  تک نہیں جانتے تھے لیکن اب ہم نے اس کو اپنایا ہے اور اس کام کی قدر کرتے ہیں۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ ہمیں مزید آگے  لے جائے گا۔"


سماکی فنونی منصوبے سے استفادہ کرنے والی عرافا مسا بھی خامس  سے متفق ہیں۔ "شروع شروع  میں، یہ میری سوچ میں  نہیں تھا کہ مچھلی کو فنون  کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن جب ہمیں پہلی بار فنون کی تربیت دی گئی تو میں نے خود کو بہتر محسوس کیا۔ ہم فن پارے بنانے اور اس کام کی باریکیوں کو دوسروں کو سکھانے کا عمل جاری رکھیں گے۔"

سماکی فنونی منصوبے  کے مقام کی اسپانسر ایمرسنز زنزیبار فاؤنڈیشن جیسے ادارے فعال طور پر فنکاروں کی معاونت کرتے ہیں اور فن کو فروغ دینے کے ذریعے خود مختارمستقبل بنانے کے لیے بصری فنونی میلے منعقد کرتے ہیں۔

پہلی نمائش
ترک سفارتخانے نے ستمبر کے شروع میں زنزیبار میں تیار کردہ گیوٹاکو فن کی پہلی نمائش دارالسلام میں منعقد کی۔ یہ نمائش ایمرسن حرمزی ہوٹل کے نمائشی ہال  میں سر انجام پائی جس میں کئی سفارتخانوں کے نمائندے شریک ہوئے۔
نمائش میں تنزانیہ کے وزیر برائے سمندری معیشت اور ماہی گیری، سلیمان مسعود ماکامی بھی شریک ہوئے اور انہوں نے سماکی فنونی منصوبے  کو زنزیبار کے امیر ماحولیاتی نظام کو دنیا کے سامنے لانے میں مدد کرنے پر سراہا۔
ترک سفیر مہمت گل لو اولو نے اس پروجیکٹ کو پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک ترقیاتی اقدام  ہونے پر زور دیا  اور کہا، "اگر آپ کسی انسان کو مچھلی دیں تو آپ اسے ایک دن کے لیے کھانا دیتے ہیں۔ اگر آپ کسی انسان کو مچھلی پکڑنا سکھائیں تو آپ اسے پورے زندگی کے لیے کھانا دیتے ہیں۔"
اس نمائش کا  عنقریب  استنبول میں  انعقاد متوقع ہے۔

 

دریافت کیجیے
صدر ایردوان کا لبنان میں فائر بندی کا خیر مقدم
"کوپ کوپ" چاڈ میں فرانسیسی قتل عام کی داستاں
رہائی پانے والے قیدی کی شامی جیل میں سلوک کی روداد
عالمی سائنس دانوں کا غزہ میں جنگ رکوانے کےلیے کھلا خط
2024 برکس کے عروج کے لئے ایک اہم موڑ کیوں ہے
شولز کی معزولی کے بعد جرمنی ایک دوراہے پر
خبر نامہ
تنازعہ اسرائیل۔ فلسطین کی تاریخ میں 7 اکتوبر کی اہمیت
غزہ چھوڑنے سے انکار پر اسرائیلی جیل میں ایک فلسطینی ڈاکٹر ہلاک
اسرائیل کے قیام کا سبب بننے والی صیہونی دہشت گردی پر ایک نظر
کیا ٹرمپ توسیع پسند ہیں؟  خطہ امریکہ پر امریکی قبضے  کے حوالے سے  ایک نظر
2024غزہ سے یوکرین اور اس سے آگے، یہ جنگوں کا سال رہا ہے
کیا بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر امریکی پابندیاں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات میں رکاوٹ بن سکتی ہیں
کیا لبنان نے نئی قیادت کے ساتھ حزب اللہ کے اثر و رسوخ پر قابو پا لیا ہے؟
اسرائیل کی نسل کُشی جنگ مسلمانوں کے بعد عیسائیوں کو بھی نگل رہی ہے۔
TRT Global پر ایک نظر ڈالیں۔ اپنی رائے کا اظہار کریں!
Contact us