برطانوی وزیر اعظم سٹارمر نے بلیئر دور کی سیاست کو جانبر کرتے ہوئے  فلسطین کے معاملے  پر اپنے عوام میں دھول جھونکی
سیاست
5 منٹ پڑھنے
برطانوی وزیر اعظم سٹارمر نے بلیئر دور کی سیاست کو جانبر کرتے ہوئے فلسطین کے معاملے پر اپنے عوام میں دھول جھونکیسٹارمر  نہ صرف لیبر پارٹی کے  روایتی طور پر جنگ مخالف موقف کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ  بیک وقت اسرائیل سے جنگ کا فی الفور خاتمہ کرنے کے خواہاں   ستر فیصد برطانوی شہریوں کو نظر انداز کر رہے ہیں
لیبر پارٹی کی حکومت اور سٹائمر کی اسرائیل نواز پالیسیاں
17 فروری 2025

 

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر، سابق وزیر اعظم  ٹونی بلیئر کی طرف سے  2003 میں عراق پر امریکی قیادت میں قبضے  کی حمایت کے علاوہ کی چند صورتحال کے علاوہ لیبر پارٹی کے  روایتی طور پر جنگ مخالف موقف اختیار کرنے کے باوجود  " غزہ کے فلسطینیوں  کے خلاف خونخوار جنگ کو نسل کشی تسلیم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

Ipsos کے تازہ ترین سروے کے مطابق سٹارمر، 73 فیصد برطانوی شہریوں کے غیر مشروط جنگ بندی کی حمایت کر نے اور 60 فیصد کے اسرائیل اپنی جنگ  میں بہت آگے جا چکا ہے  کی سوچ کے مالک ہونے کے باوجود  اکثریتی عوامی  نظریات کو نظر انداز کرتے ہوئے بلیئر کے دور کی سیاست  کو دہرا رہے ہیں۔

رائے عامہ اور حکومتی پالیسی کے درمیان یہ واضح فرق  برطانیہ کی اخلاقی ترجیحات اور آیا ملک کی خارجہ پالیسی اس کے قومی مفاد یا غیر ملکی اداکاروں کے مفادات کے لیے ہے  کے بارے میں سنگین سوالات کو جنم  دے رہا ہے۔

عوامی رائے:عقلِ سلیم   کی گونجتی ہوئی آواز

لیبر پارٹی  کے حمایتی  بھی سٹارمر  انتظامیہ کی طرف سے دھوکہ دینے  کی سوچ  رکھتے ہیں۔ YouGov کی  فروری رپورٹ کے مطابق، 83 فیصد لیبر ووٹرز چاہتے ہیں کہ اسرائیل جنگ ختم کرے۔

لیبر پارٹی کی قیادت کی  جانب سے پارلیمنٹ میں جنگ بندی کی قرارداد  کی حمایت کو مسترد کرنے اور بعد  ازاں  نومبر 2023 میں اراکین پارلیمنٹ کے استعفوں نے اس کے حمایتیوں کو دور  ہٹایا ہے۔

سٹارمر کی زیرقیادت حکومت کے پاس اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کی سکت نہ ہونے سے برطانوی  شہریوں  کے مزید آگاہی حاصل کرنے  اور  40 فیصد شہریوں کے  سٹارمر اور لیبر حکومت کی ناقص  کارکردگی  پر یقین میں اضافہ ہو ا  ہے۔

35 فیصد آبادی اسٹارمر کو   اس  عہدے کا اہل نہ ہونے  کی سوچ  رکھتی ہے۔

نتیجتاً، ملک میں لاکھوں افراد  کی شراکت سے  غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ  کرنے والے  وسیع  پیمانےکے مظاہرے دیکھنے میں  آئے ہیں۔  سڑکوں پر سب سے زیادہ یہ نعرے بلند ہوئے "اسلحے کی فروخت  بند کرو،" "اب جنگ بندی کرو" اور "فلسطین کے لیے انصاف"۔

یہ احتجاجی مظاہرے نہیں تھے بلکہ ایک ایسا اظہار تھا جس کی برطانوی معاشرے کی اکثریت نے تائید کی اور یہ  متنوع، سیاسی، مذہبی اور ثقافتی پس منظر کی نمائندگی کرتے تھے۔

حکومتی موقف:  عوام کے بجائے اتحادی سے ہم آہنگ پالیسیاں

لیبر کے منشور میں واضح طور پر اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست فلسطینیوں کا ایک "ناقابل تسخیر حق" ہے۔ پارٹی نے دو ریاستی حل کی حمایت کا بھی  عندیہ دے رکھا ہے۔

اس کے باوجود، عملی طور پر، لیبر حکومت نے اقوام متحدہ میں سفارتی دستبرداری، ہتھیاروں کی فروخت، اور ایسی پالیسیوں کی پیروی کی ہے جو محصور فلسطینیوں کے علاوہ اسرائیل کی جنگی مشین کے حق میں ہیں، جنہیں بہت سے بین الاقوامی ماہرین نے نسل کشی کا نام دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ بندی کی قراردادوں سے برطانیہ کی بار بار عدم دلچسپی کے ساتھ، ملک عالمی برادری سے خود کو الگ تھلگ کر رہا ہے، کیونکہ دنیا بھر میں انصاف کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔

غلط سفارتی بیان بازی – کہ اسرائیل اپنے دفاع میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کو مار سکتا ہے – کو ہر جگہ مسترد کر دیا گیا ہے۔ برطانوی شہریوں کو مطمئن کرنے کے لیے سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اسرائیل کو 350  اسلحہ لائسنسوں میں  سے 30 کو  معطل کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن یہ اقدام عوام کو قائل کرنے میں ناکام رہا۔ اسے  محض ایک  شو سے تعبیر کیا گیا ہے۔

منقسم  کمرہ عوام

غزہ میں خونریزی کے خوفناک مناظر نے کئی یورپی ریاستوں کو اپنی اسرائیل پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسپین، ناروے اور آئرلینڈ جیسے ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، اور  انہوں نے امریکہ اور اس کے اسرائیل نواز اتحادیوں کے عقابی فوجی انداز کو پورا کرنے کے بجائے فلسطین کے لیے انصاف کے عالمی مطالبات کے مطابق   ایک متبادل راستہ  اختیار کیا ہے ۔

برطانوی حکومت کی  اسرائیل کو اس کے جنگی جرائم کے لیے جوابدہ بنانے اور غزہ پر اس کی جنگ کو ختم کرنے کی عالمی کوششوں میں شامل ہونے میں ہچکچاہٹ، اندرون اور بیرون ملک اس کی ساکھ کو زد پہنچا رہی  ہے۔ مختلف تنازعات میں غیر جانبدار ثالث کے طور پر اس کا ممکنہ کردار بھی سوالیہ نشان  پیدا کر رہا ہے۔

اکتوبر  سے تعلق  رکھنے والے  YouGov     یورو ٹریک سروے  سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی یورپ واضح طور پر اسرائیل کو فوجی امداد کے خلاف ہے، یہاں تک کہ ایران کے ساتھ مکمل جنگ کی صورت میں بھی، برطانوی عوام نے اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ یہ اہم تبدیلی اسرائیل کے پروپیگنڈے کی ناکامی کے ساتھ ساتھ مغربی ریاستوں کی کمزوریوں کو بھی اجاگر کرتی ہے جو انصاف کے لیے کھڑے ہونے اور اسرائیل جیسی بے قابو طاقت کو لگام دینے سے قاصر ہیں۔

برطانیہ میں، حکومت پر اعتماد داؤ پر لگا ہوا ہے، سٹارمر کی بے عملی اسے نادانستہ طور پر تاریک  صہیونی اور انتہائی دائیں بازو کی قوتوں  کی پشت پناہی  کہ جو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور دشمنی کو شہہ دیتی ہیں کی بنا پر  مزید اختلاف سماجی ہم آہنگی کو ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے ۔

اسٹیمر انتظامیہ  کو  ابتک  50 کونسلرز کے اعلیٰ سطحی استعفے  وصول ہوئے ہیں ، ان میں لیبر شخصیات جیسے کہ میئر صادق خان اور اینڈی برنہم، سکاٹش لیبر لیڈر انس سرور بھی شامل ہیں ۔ بہت سے دوسرے رہنما گزشتہ سال 7 اکتوبر سے ہمارے  موبائلز پر مسلسل  نشر ہونےو الی نسل کشی کے سامنے غصے کے مارے  بے بس لاچار  محسوس کر رہے ہیں ۔

دریافت کیجیے
صدر ایردوان کا لبنان میں فائر بندی کا خیر مقدم
"کوپ کوپ" چاڈ میں فرانسیسی قتل عام کی داستاں
رہائی پانے والے قیدی کی شامی جیل میں سلوک کی روداد
عالمی سائنس دانوں کا غزہ میں جنگ رکوانے کےلیے کھلا خط
2024 برکس کے عروج کے لئے ایک اہم موڑ کیوں ہے
شولز کی معزولی کے بعد جرمنی ایک دوراہے پر
خبر نامہ
تنازعہ اسرائیل۔ فلسطین کی تاریخ میں 7 اکتوبر کی اہمیت
غزہ چھوڑنے سے انکار پر اسرائیلی جیل میں ایک فلسطینی ڈاکٹر ہلاک
اسرائیل کے قیام کا سبب بننے والی صیہونی دہشت گردی پر ایک نظر
کیا ٹرمپ توسیع پسند ہیں؟  خطہ امریکہ پر امریکی قبضے  کے حوالے سے  ایک نظر
2024غزہ سے یوکرین اور اس سے آگے، یہ جنگوں کا سال رہا ہے
کیا بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر امریکی پابندیاں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات میں رکاوٹ بن سکتی ہیں
کیا لبنان نے نئی قیادت کے ساتھ حزب اللہ کے اثر و رسوخ پر قابو پا لیا ہے؟
اسرائیل کی نسل کُشی جنگ مسلمانوں کے بعد عیسائیوں کو بھی نگل رہی ہے۔
TRT Global پر ایک نظر ڈالیں۔ اپنی رائے کا اظہار کریں!
Contact us