صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ دورِ اقتدار سے اب تک دنیا بہت تبدیل ہو چکی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسرائیل فلسطین میں نسل کُشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ آئیے اس پہلو پر زیادہ قریبی نگاہ ڈالتے ہیں کہ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں امریکہ۔ اسرائیل تعلقات جاری رہیں گے یا نہیں۔
5 نومبر 2024 میں دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل کے ساتھ تعاون میں تو کوئی تبدیلی آنے کی توقع نہیں ہے لیکن اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتان یاہو کے ساتھ تعلقات بھی پہلے دور کی طرح مسائل سے پاک رہیں گے اس کا کچھ زیادہ امکان دِکھائی نہیں دے رہا۔ لیکن جو بھی ہو ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے بعد سے نہ تو مشرق وسطیٰ پہلے جیسا رہا ہے نہ اسرائیل اور نہ ہی نیتان یاہو۔
نیتان یاہو کو ، امریکہ۔ اسرائیل تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناو کے دوران ، جنوری 2023 سے اب تک بائڈن انتظامیہ کے ساتھ عدالتی اصلاحات بِل سے لے کر مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی رہائشی بستیوں تک متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس عرصے میں انہوں نے ڈیموکریٹوں کے دباو کے خلاف کامیاب مزاحمت کی اور وقتاً فوقتاً اس مزاحمت کو داخلہ حکمت عملی میں بطور ہتھیار نہایت موئثر شکل میں استعمال کیا۔
تاہم ٹرمپ کے پہلے دور کے طرزِ قیادت کو نگاہ میں رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ نیتان یاہو کو اسی مدار میں حرکت کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس بات کا پتہ جھڑپیں رُکنے کے بعد ہی چلے گا کہ آیا ٹرمپ کے پہلے دور کی طرح آج بھی نیتان یاہو اسرائیلی سیاست کو بہلائے رکھنے کی حد تک طاقتور ہیں یا نہیں۔
یہاں دونوں سربراہان کے درمیان اعتماد کی کمی بھی ایک سنجیدہ مسئلے کی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔ اُن دنوں جب ٹرمپ 2020 کے انتخابی نتائج پر اعتراض کر رہے تھے نیتان یاہو نے ایک ویڈیو پیغام کے ساتھ بائڈن کو صدر منتخب ہونے کی مبارکباد دی تھی کہ اس حرکت کو ٹرمپ نے بعد ازاں بے وفائی قرار دیا تھا۔
ٹرمپ کی طاقت، نیتان یاہو کی کمزوری
2018 سے تاحال کروائے گئے 5 انتخابات اور ایک سالہ مخالفت پر مشتمل غیر مستحکم سیاسی دور کے بعد نیتان یاہو نے انتہائی متعصب "دینی صیہونی " کیمپ کے کنیسٹ میں داخلے کو سہل بنایا اور 2022 کے اواخر میں خود اقتدار میں واپس آ گئے۔ لیکن اپنے خلاف جاری عدالتی کاروائیوں اور 7 اکتوبر کے حملے کے بعد اپنے نام نہاد " مسٹر سکیورٹی" تصوّر کو لگنے والی کاری ضرب کی وجہ سے ان کی حیثیت ابھی بھی غیر مستحکم ہے۔
نیتان یاہو، اپنے اقتدار کے دوام میں کلیدی اہمیت کے حامل ، کولیشن کے ساجھے داروں کے مطالبات کے مقابل بتدریج زیادہ حسّاس شکل اختیار کرتے چلے گئے اور وقتاً فوقتاً انہیں لیکوڈ پارٹی کی اندرونی دھڑے بندیوں کا مقابلہ کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
نتیجتاً اس وقت نیتان یاہو کو ایک ایسے لیڈر کی حیثیت حاصل ہے جو اسرائیل میں مختلف اتار چڑھاو کے مقابل اپنا سیاسی وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور بے شمار داخلہ مسائل سے نبرد آزما ہے۔ نیتان یاہو کو احساس ہے کہ جیسے جیسے 2025 قریب آتا جائے گا انتخابات کے لئے دباو میں اضافہ ہوتا جائے گا اور تاخیروں کے باوجود 7 اکتوبر کی سکیورٹی ناکامیوں کے بارے میں ایک تفتیشی کاروائی ناگزیر ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں 2023 میں احتجاجی مظاہروں سے شروع ہونے والی مخالفت تحریک کی لہر نے اپنی قوّت کو برقرار رکھا اور 7 اکتوبر کے بعد قیدیوں کی رہائی پر مرکوز ایک ڈنامک تحریک میں تبدیل ہو گئی۔
محدود خارجہ پالیسی ترجیحات
خارجہ پالیسی میں اسرائیل کی ترجیحات میں 2010 کے وسط سے اب تک واضح سطح پر کمی آئی ہے۔ اُس دور میں نیتان یاہو کی پوتن کے ساتھ موئثر بات چیت موجود تھی اور انہوں نے چین کے ساتھ تعلقات میں فروغ اور چین کی زیرِ قیادت ہائفہ بندرگاہ کے توسیعی منصوبوں جیسے متعدد اقدامات اٹھائے۔ لیکن جُزواً امریکہ۔اسرائیل تعلقات کی اپنے سے مخصوص ساخت کی وجہ سے یہ کثیر الجہتی موقف مکمل معنوں میں پنپ نہیں سکا۔ 7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر قومی سلامتی سے متعلقہ اندیشوں کے حوالے سے، واشنگٹن پر بہت زیادہ منحصر ہو گئی۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس تاریخ سے تا حال ٹرمپ دور کی میراث یعنی"ابراہیم سمجھوتوں " کو اور اسرائیل کے ساتھ ایک وسیع فرنٹ پر تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو ایک اہم سطح پر تناو کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے مقابلے میں ، بہ نسبت 2017 کے، اپنے دوسرے دور میں ٹرمپ زیادہ مضبوط حیثیت اختیار کر رہے زیادہ انتخابی تعاون حاصل کر رہے اور زیادہ ترقی یافتہ سیاسی حیثیت سے استفادہ کر رہے ہیں۔
اس بارے میں کافی دلچسپی محسوس کی جا رہی ہے کہ امریکی پالیسیاں عالمی سطح پر علاقائی سطح پر اور خاص طور پر بحرانوں سے متاثرہ علاقوں میں کیسے تبدیل ہوں گی۔ اس دوسرے اور آخری صدارتی دور کو، سابقہ دور سے حاصل کردہ تجربات اور کووِڈ۔19 وباء جیسی دشواریوں کو نگاہ میں رکھا جائے تو ٹرمپ اِس دور کو زیادہ مضبوط حیثیت کے ساتھ شروع کرتے دِکھائی رہے ہیں۔ اگر ٹرمپ کی اس ترقی یافتہ حیثیت پر اور ان کے جنگیں ختم کروانے کے وعدے پر توجہ مرکوز کی جائے تو لگتا ہے کہ وہ علاقائی پالیسیوں سے متعلقہ موقف پر اثر انداز ہوں گے۔
بحیثیت ایک ایسے لیڈر کے جو قبل ازیں نیتان یاہو کے ساتھ تعاون کر چکا ہو 'ٹرمپ' نے علاقے میں اسرائیل کی تنہائی میں کمی کی خاطر ترتیب دیئے گئے بعض اہم حالات میں اہم کردار ادا کیا۔ مثلاً امریکی سفارت خانے کی القدس میں منتقلی، شام کی مقبوضہ گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی حاکمیت کو تسلیم کرنا اور ابراہیم سمجھوتے۔ ان اقدامات نے بلاشبہ نیتان یاہو کی حیثیت کو تقویت دی اور ان کے اقتدار کو مضبوط بنایا۔ حتّیٰ کہ یہ تک کہا جا سکتا ہے کہ ان کامیابیوں نے، 2023 تک جاری رہنے والی سیاسی عدم استحکام کی فضاء میں ، پارلیمنٹ میں لیکوڈ پارٹی کی برتری کو یقینی بنائے رکھا۔
نیتان یاہو کے پیچیدہ شخصی تعلقات
نیتان یاہو کی ناقابلِ پیشین گوئی شخصیت انہیں امریکی سربراہان کے لئے ناقابلِ اعتبار اتحادی کی حیثیت دے چُکی ہیں، خاص طور پر اسرائیلی اہداف کے امریکی علاقائی اہداف سے مختلف ہونے پر یہ بے اعتباری اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ امریکہ۔اسرائیل تعلقات کی صورتحال کے مطابق موقف اختیار کرنے کے بعد نیتان یاہو مثبت روابط کو بھی اور اختلافات کو بھی اسرائیلی سیاست میں بطور سہولت کار آلے کے استعمال کر رہے ہیں۔ جب امریکی مخالفت میں اضافہ ہوتا ہے تو خود کو اسرائیلی مفادات کا محافظ بنا کر اسرائیلی رائے عامہ میں بازگشت پیدا کر لیتے ہیں۔ جب تعلقات معمول پر آ جاتے ہیں تو مثبت نتائج کے حصول میں ادا کردہ اسٹریٹجک کردار پر زور دینے لگتے ہیں۔
تعلقات کے تناو سے قطع نظر یہ دو رُخی پالیسی نیتان یاہو کو اپنی مقبولیت کو قائم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ مثال کے طور پر 2019 کی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے بائڈن اور پوتن کے ساتھ تعاون کی نمائش کی اور 7 اکتوبر کے بعد غزّہ فائر بندی مذاکرات کے معاملے میں بائڈن کے ساتھ اختلافات کے باوجود انہوں نے اپنے آپ کو اسرائیلی مفادات کی ضمانت کے معاملے میں نہایت پُر عزم ظاہر کیا۔
نیتان یاہو نے امریکی انتظامیہ کو مختلف یقین دہانیاں کروا کے بائڈن کو فائر بندی منصوبے کا اعلان کرنے پر مائل کیا۔ لیکن اس منصوبے کی بعض شقوں کے خلاف بیانات دے کر مختصر مدّت میں بائڈن کو مشکلات کا شکار کر دیا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ نیتان یاہو نے کچھ نہیں تو ہر اجلاس کے بعد منفی بیانات جاری کئے۔
ٹرمپ کی طرزِ قیادت کو نگاہ میں رکھا جائے تو قوّی احتمال یہی ہے کہ وہ نیتان یاہو کی پیچیدہ پلٹ جھپٹ کے مقابل نسبتاً کم تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔ نیتان یاہو کے، امریکی انتظامیہ کو بہلانے کے دوران اپنی ملکی رائے عامہ کو ٹھنڈا کرنے اور امریکی صدر کا تائثر بگاڑنے کی خاطر اختیار کئےگئے، حربے ٹرمپ کی نگرانی میں نسبتاً کم پذیرائی حاصل کر سکتے ہیں۔
جنگ ختم کروانے کا وعدہ؟
انتظامیہ یا پھر صدر خواہ کوئی بھی ہو یہ تو واضح ہے کہ نہ تو امریکہ۔اسرائیل تعلقات میں کوئی قابل ذکر تبدیلی آئے گی اور نہ ہی اسرائیل کے ساتھ امریکی تعاون میں کوئی کمی ہو گی۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ٹرمپ، اس سلوک کے مقابل تحمل کا مظاہر کرنے والے لیڈر نہیں ہیں کہ جو نیتان یاہو نے بائڈن کے ساتھ روا رکھا۔ دوسرے لفظوں میں بہت ممکن ہے کہ ٹرمپ کا دوسرا دور فلسطینیوں کے لئے کچھ زیادہ موزوں نہ ہو لیکن یہ طے ہے کہ نیتان یاہو کو زیادہ دشوار دور کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مرکزی خیالات میں سے ایک جنگوں کو ختم کرنا تھا اور یہ نقطہ خارجہ پالیسی کو شکل عطا کرے گا۔
جب بین الاقوامی بیانات کی اہمیت اور بڑھتی ہوئی توقعات کو نگاہ میں رکھا جائے توٹرمپ انتظامیہ محتملاً اس سمت میں اقدامات کرے گی۔ لیکن اصل مسئلہ اس پہلو میں مضمر ہے کہ کوئی بھی جھڑپ ہوئی تو اسے کیسی شرائط میں ختم کیا جائے گا اور یہ پہلو نیتان یاہو کے لئے کافی حد تک مشکل مسئلہ ہے۔ جیسے جیسے ٹرمپ کے "جنگ ختم کرو" موقف کے عملی اثرات سامنے آتے جائیں گے تیسے تیسے ان کے نیتان یاہو کے ساتھ تعلقات کے محّرکات بھی واضح ہوتے جائیں گے۔
اسرائیل کے ساتھ تعاون کو نیتان یاہو سے الگ کیا جانا
خواہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں یہ احتمال موجود ہے کہ ٹرمپ اپنے نئے دور میں نیتان یاہو کے مقابل ایک مشکل موقف اختیار کریں گے۔ اگرچہ یہ توقع تو نہیں ہے کہ اسرائیل مکمل طور پر امریکی ہدایات کے مطابق حرکت کرے گا ہاں اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پہلے سے زیادہ دباو میں ہو گا۔
ٹرمپ کے لئے یہ موقف مفید قدم ہو سکتا ہے کہ اسرائیل کو دی جانے والی مدد نیتان یاہو سے بالا کر دی جائے ۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ ان کے اسرائیل اور نیتان یاہو کے بارے میں بیانات مختلف ہو جائیں۔ اس حوالے سے نیتان یاہو کے گالانت کی جگہ یسرائل کاٹز کو بطور وزیر دفاع متعین کرنے کو ایک اسٹریٹجک قدم کہا جا سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ کے عہدہ صدارت کا آغاز کرنے سے پہلے کے دو ماہ کے دوران اسرائیل کی طرف سے جاری جنگ کے ہر دو محاذوں کی صورتحال قدرتی طور پر ان تعلقات کے بہاو پر اثرانداز ہو گی۔ نتیجتاً ٹرمپ کے پہلے دور جیسی مثبت روش کو توقع نہ بھی ہو تو بھی جنگ کی نہج ٹرمپ۔نیتان یاہو تعلقات میں کسی تبدیلی کی گہرائی کے تعین میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔