سیاست
7 منٹ پڑھنے
ایران۔ جنگ مخالف ٹرمپ اور  سیکیورٹی معاملات
ایران۔ جنگ مخالف ٹرمپ اور  سیکیورٹی معاملات ایران۔ جنگ مخالف ٹرمپ اور  سیکیورٹی معاملات  پر خدشات رکھنے والی مذہبی شخصیات کے درمیان پُل  صراط پر کھڑا ہے۔
ایران۔ جنگ مخالف ٹرمپ اور  سیکیورٹی معاملات
8 گھنٹے قبل

یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ ٹرمپ اور ایران پر کس کی بالادستی ہے - ٹرمپ نے ایک سخت گیر کابینہ کا انتخاب کیا ہے، جب کہ ایران اس بات پر منقسم ہے کہ آیا کہ  سیاسی رعایتیں دی جائیں یا امریکہ کے خلاف مضبوط بنا جائے۔

نئے امریکی صدر کے 20 جنوری 2025 کو اپنی دوسری غیر مسلسل مدت کا آغاز کرنے کے ساتھ، مشرق وسطیٰ  خاص طور پر ایران  کے معاملے میں  نئی امریکی قیادت  خود کو ٹیسٹ کرتی رہے گی۔ بہت سے جیو پولیٹیکل تجزیہ کار متجسس ہیں  کہ اس بار تہران کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی کیا ہو گی۔

ٹرمپ کی جیت نے ایرانی سیاسی حلقوں میں مختلف تبصروں اور بحثوں کو جنم دیا ہے اور  خاص طور پر  اصلاح پسند اور قدامت پسند حلقوں  کے  درمیان  اہم  سطح کے  نظریاتی اختلافات   کو مزید  گہرا ئی دی  ہے۔

2016 میں جب ٹرمپ نے پہلی بار صدارت کا عہدہ سنبھالا تو وائٹ ہاؤس میں ان کی آمد نے بین الاقوامی تعلقات بالخصوص مشرق وسطیٰ کے حوالے سے تبدیلی کے دور  کے آغاز کا اشارہ دیا تھا۔

باراک اوباما کے دور میں دستخط  کردہ جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن سے ٹرمپ انتظامیہ کی یکطرفہ دستبرداری اور اس  کے نتیجے میں "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی پر عمل درآمد ایرانی سیاسی ماحول میں بڑی تبدیلیوں  کا باعث بنا۔ ان سیاسی چالوں نے ایران میں اہم سیاسی اداکاروں کے درمیان ٹرمپ انتظامیہ کے حوالے سے  تاثرات اور  تبصروں  میں نمایاں سطح کے نظریاتی اختلافات  کو جنم دیا ہے۔

مثال کے طور پر، ٹرمپ کی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے فوراً بعد، ممتاز ایرانی اصلاح کاروں نے ٹرمپ کو ایک خط لکھ کر اس بات کا دفاع کیا کہ ایران ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات  کرنے کا خواہاں  ہے۔

اس کے جواب میں ایرانی سخت گیر افراد نے مطالبہ کیا کہ اس وقت کے صدر حسن روحانی کی انتظامیہ جوہری معاہدے کے آرٹیکل 37 کے تحت ایران کی ذمہ داریوں کو معطل کر دے جس کے جواب میں ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی۔

روس، چین اور متوازن پالیسی

ٹرمپ کی وائٹ ہاوس  کو واپسی کے بعد ایران ایک بار پھر سیاسی تناؤ کا سامنا کر رہا ہے جو قدامت پسندوں اور اصلاح پسندوں کے درمیان نظریاتی تقسیم سے پیدا ہوا ہے۔

اصلاح پسندوں کا دعوی ہے کہ ٹرمپ کی چین پر قابو پانے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے کی حکمت عملی ایران کے ساتھ معاہدہ ناگزیر بناتی ہے۔دوسرے لفظوں میں، ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنا امریکی عالمی اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹجک تقاضا ہے۔

لیکن یہ نقطہ نظر مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ آیا ٹرمپ ایک عملی نقطہ نظر اپناتے ہیں اور ایران کے معاہدے کو اندرون اور بیرون ملک امن ساز کے طور پر ذاتی ورثہ  چھوڑنے کے لیے بروئے کار لاتے ہیں کہ نہیں۔ ایرانی اصلاح کار ٹرمپ کی جنگ مخالف بیان بازی کو ایک اسٹریٹجک موقع سے تعبیر کرتے ہیں  اور  اس بات کا دفاع کرتے ہیں کہ  ایران کے ساتھ معاہدقائم کرنے کا ہرجانہ جنگ چھیڑنے کے معاشی اور سیاسی بوجھ سے بہت کم  ہو گی۔ اگرچہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اور ایران کا ممکنہ معاہدہ تہران کے ماسکو اور بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو کمزور کر دے گا، لیکن ایرانی اصلاح پسندکثیرالجہتی  اتحاد کی تلاش میں یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری طرف قدامت پسندانہ موقف  ایران کی سلامتی اور موجودہ جغرافیائی سیاسی حیثیت کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ یہ نئی امریکی انتظامیہ کے حساب کتاب سے متصادم ہے، کیونکہ ٹرمپ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں "محور ِمزاحمت" جیسے ایران کے حمایت یافتہ علاقائی اتحاد کے حوالے سے ایران کی خطے میں پالیسیوں  میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کریں گے ۔

ٹرمپ انتظامیہ میں  شامل  کئی کٹر شخصیات نے ایران کے بارے میں سخت، زیادہ غیر سمجھوتہ کرنے والی پالیسیوں کی وکالت کی ہے۔ اگر ایران ، دشمنانہ موقف کے حامل  امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے تو اس سے تہران کی  طرف سے بڑے اہتمام کے ساتھ حاصل کردہ  فوجی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور ایران کے اندر  رد عمل   جنم لے گا۔ یہ چیز بیک وقت  سٹریٹیجک  شراکت دار چین اور روس کے ایران پر اعتماد کو بھی  ٹھیس  پہنچائے گا اور وہ تہران کے ساتھ اپنے تجارتی اور فوجی تعلقات کو محدود کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ حتیٰ کہ سعودی عرب اور اسرائیل جیسے علاقائی حریفوں کی بھی تہران کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی  حوصلہ افزائی ہو گی۔

2016 میں جوہری معاہدے سے ٹرمپ کی یکطرفہ دستبرداری نے قدامت پسندوں میں اس تصور کو تقویت دی کہ واشنگٹن ایک ناقابل اعتماد ادا کار ہے۔ مزید برآں، ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ پر ٹرمپ انتظامیہ کے سخت موقف نے قدامت پسندوں کی ممکنہ مذاکرات کی مخالفت کو مزید تقویت دی ہے۔

ٹرمپ کے دور میں ایران کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

ایرانی حکومت ممکنہ طور پر دو جہتی حکمت عملی پر عمل کرے گی -  جن میں سے ایک  میں عالمی تناؤ کو کم کرکے بین الاقوامی دباؤ میں نرمی لانے پر  توجہ مرکوز کی جائیگی، جبکہ دوسری پالیسی  علاقائی اثر و رسوخ کو بڑھا کر اسٹریٹجک مزاحمت  کو  تقویت  دینے پر مبنی ہو گی۔

یہ نقطہ نظر تہران کے سفارتی بیانات میں منظر عام پر آئے گا۔ اگرچہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہونے کے موقف  کا اظہار کر رہا ہے ، یہ دوسری جانب  اپنی خارجہ پالیسی کے اہداف کو بالائے طاق رکھنے کے لیے  دفاعی اور علاقائی پراکسی قوتوں کو مضبوطی دلانے پر عمل پیرا رہے گا۔

مغربی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں ایرانی اثر و رسوخ کا نیٹ ورک دنیا کو، بالخصوص یورپی اور امریکی قیادت کو یہ باور کرانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا کہ مذاکرات کے موقع کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان،  واشنگٹن کے روسی پیش رفت کے  بر خلاف  یورپ کو تحفظ  دلانے کی خاطر مالی بوجھ کے معاملے میں  سفارتی تناؤ موجود تھا،  اب  بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کو توقع ہے کہ ٹرمپ کے دوسرے دور میں بھی ایسی ہی متحرک صورتحال سامنے آئے گی۔ ایران اس اختلاف سے فائدہ اٹھا  سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ محدود لیکن اسٹریٹجک سطح پر اپنا تعاون جاری رکھتے ہوئے  اپنا جوہری پروگرام بلاتعطل جاری رکھے گا۔

لیکن گہرائی پکڑنے والے  معاشی بحرانوں  کے ماحول  میں  ایران، ملکی صدر کے یورپی ڈیموکریسی سے ڈھکی چھپی حمایت حاصل   کرنے میں معاون ہو سکنے  کے  لیے  اپوزیشن کے  لیے اپنے مطالبات کو زیر لب لانے  کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

اس لیے امکان ہے کہ ایران سوشل میڈیا کے کچھ پلیٹ فارمز کو غیر مسدود کرے گا، تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرے گا، اور کچھ فرقہ وارانہ اور نسلی مطالبات کے اظہار کی اجازت دے گا۔

عمومی طور  پر،  یہ ملک ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے باوجود اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے،  ملکی اور خارجہ پالیسی دونوں محاذوں پر اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک کثیر الجہتی حکمت عملی بنانے کے اشارے دے رہا ہے۔

لیکن بہت کچھ عوامل ایران کی طرف سے بڑی توجہ کے ساتھ تیار کردہ  چالوں  پر ٹرمپ کے جواب پر منحصر  ہیں۔ ٹرمپ کی جنگجو اور غیر مستحکم شخصیت کے پیش نظر، تہران یا تو پابندیوں کی نئی لہر میں دب جائے گا اور خطے میں سٹریٹجک نقصان اٹھائے گا، یا وہ اس عمل پر قابو پا کر واشنگٹن کے ساتھ ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔

 

 

 

دریافت کیجیے
صدر ایردوان کا لبنان میں فائر بندی کا خیر مقدم
"کوپ کوپ" چاڈ میں فرانسیسی قتل عام کی داستاں
رہائی پانے والے قیدی کی شامی جیل میں سلوک کی روداد
عالمی سائنس دانوں کا غزہ میں جنگ رکوانے کےلیے کھلا خط
2024 برکس کے عروج کے لئے ایک اہم موڑ کیوں ہے
شولز کی معزولی کے بعد جرمنی ایک دوراہے پر
خبر نامہ
تنازعہ اسرائیل۔ فلسطین کی تاریخ میں 7 اکتوبر کی اہمیت
غزہ چھوڑنے سے انکار پر اسرائیلی جیل میں ایک فلسطینی ڈاکٹر ہلاک
اسرائیل کے قیام کا سبب بننے والی صیہونی دہشت گردی پر ایک نظر
کیا ٹرمپ توسیع پسند ہیں؟  خطہ امریکہ پر امریکی قبضے  کے حوالے سے  ایک نظر
2024غزہ سے یوکرین اور اس سے آگے، یہ جنگوں کا سال رہا ہے
کیا بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر امریکی پابندیاں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات میں رکاوٹ بن سکتی ہیں
کیا لبنان نے نئی قیادت کے ساتھ حزب اللہ کے اثر و رسوخ پر قابو پا لیا ہے؟
اسرائیل کی نسل کُشی جنگ مسلمانوں کے بعد عیسائیوں کو بھی نگل رہی ہے۔
TRT Global پر ایک نظر ڈالیں۔ اپنی رائے کا اظہار کریں!
Contact us